Ultimate magazine theme for WordPress.

پاکستان میں ویکسین لگانے کے باوجود دو صحت ورکرز کورونا میں مبتلا ہوگئے

266

کراچی (آن لائن نیوز روم) پاکستان میں دو صحت ورکرز کا ویکسین لگانے کے بعد کووڈ 19 ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آگیا جس سے پنجاب میں ویکسین لینے والی قابل ذکر تعداد میں لوگوں کے دوبارہ انکشاف پر شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ مطابق میو ہسپتال کے صحت سے متعلق معاون عملے اور اس ادارے میں اس کی نرس اہلیہ ان سات ملازمین میں شامل ہیں جنہیں حال ہی میں صحت کے پیشہ ور افراد کو ویکسین لگانے کی سرکاری مہم کے تحت چینی سائنوفارم ویکسین دی گئی تھی۔ اس جوڑے کو پہلا ڈوز 4 فروری کو دیا گیا تھا جس کے تین ہفتوں بعد ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے دوسرے صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کی رینڈم سیمپلنگ لینے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ صحت حکام کو کسی بھی الجھن کو دور کرنے کے لیے کورونا وائرس ویکسین کے اعداد و شمار اور تجزیہ کی رپورٹس کو فوری طور پر تیار کرنا چاہیے۔ متاثرہ صحت ورکر بھٹی نے ڈان کو بتایا کہ ‘ہم میو ہسپتال لاہور کے پہلے 7 ملازمین میں شامل ہیں جنہیں ویکسین لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں سپروائزر ہوں اور کووڈ 19 کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے نامزد کیا گیا ہوں جبکہ مجھے وائرس کے شکار افراد کی لاشوں کو بھی منتقل کرنے کا کام سونپا گیا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جب میں نے 25 فروری کو ویکسین کی اپنی دوسری خوراک لینے کا ارادہ کیا تو مجھے درجہ حرارت محسوس ہوا اور میری جانچ پڑتال کرنے والے ڈاکٹروں نے نے علامات کی وجہ سے کووڈ 19 ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا، 28 فروری کو میرے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا’۔

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.