Ultimate magazine theme for WordPress.
GFS builders

سندھ کے لیے ذرا بھی کام کرتے ہیں تو سندھ کے بااختیار ہونے کا نعرہ لگ جاتا ہے:اسد عمر

80

شکارپور (آن لائن نیوز روم) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کورونا وائرس کی تمام ویکسین وفاقی حکومت سندھ کی حکومت کو فراہم کر رہی ہے تاہم اس پر سیاست کی جارہی ہے، انہیں شرم آنی چاہیے کہ لوگوں کی صحت سے متعلق چیز پر بھی جھوٹ بول کر سیاست کی جارہی ہے۔ شکار پور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ہم سندھ کے عوام کے لیے ذرا سا بھی کوئی کام کرنے کی کوشش کریں تو 18ویں ترمیم، سندھ کے بااختیار ہونے کا نعرہ لگ جاتا ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ عوام اور صوبوں کے بااختیار ہونے کا جتنا ادراک وزیراعظم عمران خان کو ہے وہ کسی اور سیاستدان کو نہیں ہے، ان کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو گاؤں کی سطح تک مقامی حکومت قائم کردی گئی، ترقیاتی فنڈز دیے گئے جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیکن بااختیار ہونا اور اپنے عوام، اپنے علاقوں میں ظلم وجبر کے لیے آزاد ہونا ایک چیز نہیں ہے، وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری نہ صرف سمجھتی ہے بلکہ اسے ادا کرنے کے لیے تیار بھی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائی معاملہ ہے لیکن کورونا وائرس کی بیماری آئی تو چاہے ٹیسٹنگ کٹس ہو، طبی عملے کے لیے ذاتی تحفظ کا سامان ہو، لیبارٹریز کا قیام ہو، آکسیجن، بستر، وینٹیلیٹرز وغیرہ تمام چیزوں کے لیے وفاقی حکومت نے اربوں روپے خرچ کیے اور سندھ سمیت پاکستان کے ہر صوبے میں یہ تمام اشیا فراہم کی گئیں۔ اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کا روزگار ختم ہوا، آمدنی میں کمی آئی تو اس وقت بلاول بھٹو زرداری کہتے تھے لاک ڈاؤن، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے تھے کہ کوئی بھوک سے نہیں مرتا لیکن عمران خان کو احساس تھا کہ غربت اور اس میں بھوک کیا چیز ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے وفاق نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی امداد کا پروگرام کیا اور صرف 2 ماہ میں 2 کھرب روپے پاکستان کے عوام میں تقسیم کیے گئے جس میں سے 65 ارب روپے سندھ کے عوام پر خرچ کیا گیا۔

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.