Ultimate magazine theme for WordPress.
GFS builders

ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ کو کیوں ہٹایا گیا؟۔۔۔ اندر کی کہانی سامنے آگئی

0 220

کراچی (آن لائن نیوز روم) دادو میں ہونے والے تہرے قتل کیس کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہونے والے ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ کا تبادلہ کردیا گیا۔ 17 جنوری 2018 میں تحصیل میہڑ کے یوسی چیئرمین کرم اللہ اور ان کے دوبیٹوں کو فائرنگ کرکےقتل کیا گیا تھا جس کا مقدمہ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی سردار شبیر چانڈیو اور ان کے بھائی برہان چانڈیو سمیت 6 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو ضمانت پر ہیں جب کہ دو ملزم گرفتار اور دو ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ ملزمان کی عدم گرفتاری پر سپریم کورٹ کےچیف جسٹس گلزار احمد نے رواں 12 اکتوبرکو ازخود نوٹس لیتے ہوئےسماعت کے دوران ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم احمد شیخ پرسخت برہمی کا اظہارکیا تھا اور ملزمان کے خلاف کارروائی کاعندیہ دیا تھا جب کہ سپریم کورٹ نےآئندہ سماعت میں آئی جی سندھ مشتاق مہر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونےکا حکم بھی سنایا تھا۔ پولس حکام کے مطابق آئی جی سندھ نے 28 اکتوبرکو جائے وقوع کا معائنہ کرکے متاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے تہرے قتل پرافسوس کا اظہارکیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی سماعتوں میں ڈی آئی جی نعیم شیخ ملزمان کی گرفتاری کی پیش رفت کےحوالے سے عدالت عالیہ کو مطمئن نہ کرسکے تھے جس کے بعد بدھ کے روز چیف سیکرٹری سندھ نے ڈی آئی جی نعیم شیخ کا تبادلہ کرکے انہیں ڈی آئی جی ٹریننگ اور شرجیل کھرل کو ڈی آئی جی حیدرآباد کا نوٹیفیکشن جاری کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.