Ultimate magazine theme for WordPress.

70 سالہ خاتون کمانڈر طالبان کی ٹیم کا حصہ بن گئیں

0 88

کابل (آن لائن نیوز روم) افغانستان کے شمالی صوبے بغلان کے شہر ناہرین کی 70 سالہ بی بی عائشہ حبیبی جنگ سے تباہ حال ملک کی واحد خاتون جنگجو کمانڈر مانی جاتیں ہیں۔ وہ ماضی میں طالبان اور سویت یونین کے خلاف سرگرم رہیں لیکن اب انہوں نے باظابطہ طور پر طالبان اسلامی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ افغان عہدے داروں نے طالبان کے اس بیان کی تصدیق کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بی بی عائشہ ان کے ساتھ شامل ہو گئی ہیں۔ بی بی عائشہ کو ’کمانڈر کفتر‘ اور ’ڈو (فاختہ) کمانڈر‘ کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ 70 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے خلاف ایک دھائی پر محیط جنگ کے دوران اس وقت کی نوجوان خاتون کمانڈر نے 200 جنگجوؤں کا ایک گروہ تشکیل دیا اور بغلان میں سوویت مخالف کمانڈروں میں ایک اہم شخصیت بن گئیں۔ 1990 کی دہائی میں جب سخت گیر طالبان نے افغانستان میں کامیابی حاصل کی تو وہ طالبان کے خلاف لڑ پڑیں۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد کفتر نے اپنے جنگجوؤں کو اسلحے سے پاک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کمانڈر کفتر وہ واحد خاتون افغان کمانڈر ہوسکتی ہیں جو اپنے اردگرد عسکریت پسند بندوق برداروں کے ایک گروہ کو جمع کرنے، علاقے کا کنٹرول سنبھالنے اور اپنی خود مختاری کا استعمال کرنے میں کامیاب رہیں۔ دیہی ضلع نہرین کے ضلعی گورنر فضل دین مرادی نے 16 اکتوبر کو ریڈیو فری افغانستان کو بتایا کہ ’کمانڈر کفتر اپنے متعدد مسلح ساتھیوں کے ساتھ طالبان میں شامل ہو گئی ہیں۔‘ انہوں نے چند دن پہلے نہرین میں سجانو کے علاقے پر حملہ کیا اور وہاں کے کچھ دیہاتوں پر قبضہ کر لیا۔ کفتر کمانڈر کی تاریخ روسی کمانڈوز کے خلاف مزاحمت کی ہے، جو مرکزی حکومت کی حکمرانی کو وسعت دینے کے لیے وادی سیجن میں داخل ہوئے تھے۔ بی بی عائشہ روسیوں کے خلاف جنگ میں فاختہ جیسی چستی کی وجہ سے ’ڈو کمانڈر‘ کے نام سے جانی گئیں۔ ایک ٹویٹ میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پہلے کہا کہ طالبان کے تبلیغ اور رہنمائی کمیشن کے عہدے داروں نے 15 اکتوبر کو کفتر اور اس کے حامیوں کو طالبان کی صفوں میں خوش آمدید کہا۔ بی بی عائشہ نے مرکزی حکومت سے قریبی تعلقات رکھے ہیں اور طالبان حملوں کے خلاف مزاحمت میں حکومت کی حمایت کرنے کی کوشش کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.