Ultimate magazine theme for WordPress.

کبھی نواز شریف سے استعفیٰ طلب نہیں کیا: سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام

0 65

اسلام آباد (آن لائن نیوز روم) آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی سابق وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ طلب نہیں کیا۔  لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے دوٹوک الفاظ میں انکار کیا کہ انہوں نے کسی بھی شخص کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو کوئی پیغام بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کو بھی وزیراعظم کو کوئی پیغام دینے کیلئے نہیں بھیجا، یہ بالکل غلط ہے، اس کی بجائے، انہوں نے اصرار کیا کہ 2014 کے دھرنے کے وقت ہر موقع پر وہ حکومت کو مشورہ دیتے رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے سیاسی انداز سے نمٹا جائے تاکہ احتجاج ختم کیا جا سکے۔ حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلی مرتبہ سب کے سامنے دعویٰ کیا کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے 2014 کے حکومت مخالف دھرنے کے دوران انہیں پیغام بھیجا تھا کہ ’آدھی رات تک استعفیٰ دے دیں۔‘ حال ہی میں منعقدہ مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران نواز شریف نے پارٹی ارکان کو بتایا کہ ’مجھے آدھی رات ایک پیغام ملا تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’’کہا گیا تھا کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو نتائج بھگتنا ہوں گے اور مارشل لاء بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔‘ نواز شریف نے کہا، ’میں نے کہا جو چاہیں کر لیں لیکن میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔‘  تاہم، نواز شریف نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جو ان کے پاس ڈی جی آئی ایس آئی کا پیغام لے کر آیا تھا۔  2014 میں، پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے 126؍ دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا جو 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف تھا، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نواز شریف نے کھل کر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے ظہیر الاسلام کے مبینہ منصوبے کے حوالے سے کوئی بات کہی ہے۔ اب تک لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی تھی لیکن گزشتہ روز انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات کا انکار کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہوں نے نواز شریف کو کوئی پیغام نہیں بھیجا تھا، اگرچہ اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی کابینہ کے ارکان اور سینئر رہنما نواز شریف کو پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے دھرنے کے ذریعے اقتدار سے نکال باہر کرنے کے مبینہ ’منصوبے‘ کا ذکر کرتے رہے ہیں لیکن حکومت نے اب تک اس معاملے کی تحقیقات نہیں کرائی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.