Ultimate magazine theme for WordPress.

پب جی گیم کھیلنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ

0 113

کراچی (آن لائن نیوز روم) معروف دینی ادارے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی نے پب جی کھیلنے والوں کے لیے بری خبری سنادی. ادارے کے دارالافتاء سے سوال پوچھا گیا کہ “کیا پب جی گیم کھیلنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتاہےاورکیااس کا نکاح باقی نہیں رہتا ؟” جس کےجواب میں فتویٰ جاری کرتےہوئےکہاگیاہےکہ “پب جی گیم میں بعض دفعہ پاور حاصل کرنے کے لیے گیم کھیلنے والے (sanhok) کو بتوں کے سامنے پوجا کرنی پڑتی ہے اور گیم کھیلنے والے شخص کا گیم میں موجود اپنے کھلاڑی کو پاور حاصل کرنے کے لیے بتوں کے سامنے جھکانا اور بتوں کی پوجا کروانا اس کا اپنا فعل ہے، گیم میں نظر آنے والا کھلاڑی اسی گیم کھیلنے والے کا عکاس اور ترجمان ہے اور مسلمان کا توحید کا عقیدہ ہوتے ہوئے بتوں کے سامنے جھکنا شرک فی الاعمال ہے، اور گیم میں یہ عمل کرنے سے رفتہ رفتہ بتوں کے سامنے جھکنے کی قباحت بھی دل سے نکل جائے گی، لہذا یہ گیم کھیلنا ناجائز ہے اور پب جی گیم میں بتوں کے سامنے جھک کر پاور حاصل کرنا شرک ہے، اور عمدًا اس کو کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا،ایسے شخص پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی کرنا ضروری ہے۔ اور اگر کوئی شخص پب جی گیم میں شرک کا کوئی عمل نہیں کرے پھر بھی شرک پر راضی رہنے اور کئی اور مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے پب جی گیم کھیلنا جائز نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.