Ultimate magazine theme for WordPress.

بلدیہ فیکٹری کیس میں عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت، رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان بری

0 102

کراچی (آن لائن نیوز روم) کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت سنا دی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کردیا گیا۔ واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 یعنی کے 8 سال قبل کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے مرد و خواتین سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر فیکٹری مالکان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، بعدازاں ان پر غفلت کے الزامات عائد کی گئے تھے لیکن پھر اس المناک واقعے پر کئی سوالات اٹھے تھے کہ آگ لگی یا لگائی گئی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی سانحے کے اس کیس کا فیصلہ آج 8 سال بعد سنایا گیا، جس کے لیے بڑی تعداد میں میڈیا، صحافی عدالت میں موجود رہے۔ سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج کی جانب سے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے فیصلہ سنایا گیا۔ اس کیس کا فیصلہ شواہد کی ریکارڈنگ، پروسیکیوشن کے گواہوں کے بیانات، ملزمان کے بیانات، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل اور ملزمان کے وکیل اپنے دلائل مکمل ہونے پر سامنے آیا۔ عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں 4 ملزمان رؤف صدیقی، عبدالستار خان، علی حسن قادری، اقبال ادیب خانم عدم شواہد کی بنیاد پر بری کردیا گیا جبکہ 2 مرکزی ملزمان عبدالرحمٰن بھولا اور زبیر چریا کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ اس کے علاوہ اے ٹی سی نے جرم میں سہولت فراہم کرنے پر 4 چوکیداروں کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل 17 ستمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان تھا تاہم اسٹیٹ پراسیکیوٹر (سرکاری وکیل) نے متاثرین سے متعلق اضافی دستاویزات پیش کیں تھی جس کے بعد معاملے کو 22 ستمبر کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔ 8 سال تک چلنے والے اس مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا، زبیر عرف چریا، حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے چار چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل تھے۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری کے مالک کی جانب سے 25 کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی، حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔ خیال رہے کہ اس کیس میں پروسیکیوشن نے فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 افراد کی گواہی سمیت مقدمے کو مکمل کیا، تاہم اس کے برعکس نامزد ملزمان نے تمام تر الزامات کو مسترد کردیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.