Ultimate magazine theme for WordPress.

موٹروے زیادتی کیس میں گرفتاری دینے والے وقار الحسن کا موقف درست ثابت،متاثرہ خاتون کا پہچاننے سے انکار

0 304

لاہور(آن لائن نیوز روم) لاہور موٹروے زیادتی کیس میں گرفتاری دینے والے وقار الحسن کا موقف درست ثابت ہوا، متاثرہ خاتون نے پہچاننے سے انکار کردیا۔ ذرائع کےمطابق ملزم وقار الحسن کی تصاویر متاثرہ خاتون کو واٹس ایپ کے ذریعے بھجوائی گئی تھیں لیکن خاتون نے ملزم کو پہچاننے سے انکار کردیا ہے۔ دوسری جانب موٹر وے زیادتی کیس میں خود گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن نے زیر حراست ایک اور اہم انکشاف کیا ہے۔ وقار الحسن نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ کیس کا مرکزی ملزم عابد ایک عرصے سے شفقت نامی شخص کے ساتھ وارداتیں کر رہا ہے، شفقت بہاولنگر کا رہائشی اور عابد کا دوست ہے۔ پولیس نے شفقت کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بہاولنگر اور شیخوپورہ روانہ کر دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں وقارالحسن موٹر وے زیادتی کیس میں ملوث نہیں پایا گیا تاہم ڈی این اے رپور ٹ آنے کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عابد کا بہنوئی اور تین رشتے دار پولیس حراست میں ہیں جن سے ملزمان کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے دو روز قبل روز پریس کانفرنس عابد علی اور وقار الحسن کو موٹر وے زیادتی کیس کا ملزم نامزد کیا تھا اور ملزمان کی اطلاع دینے کے لیے 25، 25 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔ گزشتہ روز موٹر وے زیادتی کیس میں نامزد ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے ماڈل ٹاؤن لاہور میں خود اپنی گرفتاری پیش کی اور پولیس کو بتایا کہ اس کا موٹر وے زیادتی کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ علاوہ ازیں موٹر وے زیادتی کیس میں خود پولیس کو اپنی گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن کے سالے عباس نے بھی اپنی گرفتاری دیدی۔ ذرائع کے مطابق موٹر وے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور زیر حراست ملزم وقارکے سالے عباس نے بھی گرفتاری دے دی ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ عباس نے شیخوپورہ میں خود کو پولیس کے حوالے کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم وقار الحسن نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ اس کا سالہ عباس اس کے نام پر جاری ہونے والی سم استعمال کر رہا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.