Ultimate magazine theme for WordPress.

اکشے کمار گائے کا پیشاب اور ہاتھی کے گوبر کی چائے پیتے ہیں

0 169

ممبئی (آن لائن نیوز روم) بھارت کے بڑے بڑے فلم اسٹاز بھی گائے کے پیشاب کو صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔ بالی ووڈ کے کھلاڑی اکشے کمار نے بھی گائے کا پیشاب پینے کا انکشاف کیا ہے۔ بالی ووڈ میں اپنی فٹنس کی وجہ سے مشہور اکشے کمار کا کہنا ہے وہ خود کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ پیشاب پیتے ہیں۔ اکشے کمار خود کو صحت مند رکھنے کے لیے نہ صرف گائے کا پیشاب بلکہ ہاتھی کے گوبر کی چائے بھی پیتے ہیں۔ اکشے کمار نے گائے کے جسم سے خارج ہونے والے پیشاب پینے کا انکشاف کر کے مداحوں کو حیران کردیا ہے۔ گائے کے پیشاب اور گوبر کو ہندو مذہب میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہندو گائے کو اپنی ماں تصور کرتے ہیں۔ وہ گائے کا گوشت تو نہیں کھاتے لیکن گائے کے پیشاب اور گوبر کو عبادت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ ہندووں کا عقیدہ ہے کہ گائے کا پیشاب اور گوبر استعمال کرنے سے ثواب ملتا ہے۔ ہندو معاشرے میں عوما نچلی ذات کے اور کم پڑھے لکھے ہندو گائے کا پیشاب اور گوبر استعمال کرتے تھے۔ لیکن اکشے کمار کی طرف سے گائے کا پیشاب پینے کے انکشاف نے اس نظریے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے کورونا وائرس کے علاج کے لیے بھارت کے کئی دیسی ادویات کے ادارے گائے کے گوبر اور پیشاب کو موثر قرار دے چکے ہیں۔ بھارت کے کئی علاقوں میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے گائے کا گوبر اور پیشاب سے استعمال کیا جارہا ہے۔ حلانکہ میڈیکل سائنس گائے کے گوبر اور پیشاب کو صحت کے لیے مضر قرار دے چکی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گائے کے پیشاب سے نہ صرف کورونا وائرس کا علان ناممکن ہے بلکہ اس سے انسان مزید بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹرز کی اصلاح کو نہ مانتے ہوئے بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے کئی رہنما سرعام گائے کے پیشاب اور گوبر کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے پروموٹ کر رہے ہیں۔ گائے کے پیشاب اور گوبر کے استعمال سے بھارت کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ جہاں ایک طرف دنیا بھر کے سائنس دان جدید طریقوں سے بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے میں مصروف ہے وہیں ہندو بھارت میں بسنے والی آبادی کے بڑے حصے کو پیشاب پینے کے لیے قائل کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کمزور پڑتا جارہا ہے لیکن بھارت میں تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ نریندرا مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے بھارت میں انتہا پسندانہ سوچ کو فروغ ملا۔ اسی متعصبانہ سوچ کی وجہ سے بھارت کی معیشت اور امیج کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اکشے کمار کے انکشاف سے بھارت میں پروان چڑھتی اور پھلتی پھولتی تواہم پرستی پر پڑا پردہ بھی ہٹا دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.