Ultimate magazine theme for WordPress.

علامہ ضمیر اختر نقوی اپنے پڑوسی مرحوم طالب جوہری کے پاس پہنچ گئے

0 105

کراچی (آن لائن نیوز روم) علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ علامہ ضمیر اختر نقوی کی نماز جنازہ بعد نماز مغرب انچولی میں ادا کی جائے گی۔ اسکالر ضمیر اختر کو دل کا دورہ پڑنے پر گزشتہ شب آغا خان اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ مرحوم نے کئی کتابیں بھی لکھیں انہوں‌ نے 1944 کو لکھنو میں‌ سید ظہیر حسن نقوی کے گھر پیدا ہوئے۔ علامہ ضمیر اختر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مجالس سید الشہدا کا ذکر کرتے تھے۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے عشرہ اولی انچولی سوسائٹی ہی میں‌ پڑھا تھا۔ رواں سال علامہ طالب جوہری بھی رضائے الہی سے انتقال کر گئے تھے۔ 1967 میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور پھر مستقل طور پر کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔ انہوں نے حسین آباد اسکول سے ابتدائی اور گورنمنٹ جوبلی کالج ، لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کیا۔ حاصل معلومات کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی سے “شیعہ کالج لکھنؤ” میں گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ میر انیس اکیڈمی کے صدر اور سہ ماہی میگزین القلم کے ایڈیٹر ان چیف تھے ۔علامہ ضمیر اختر نقوی پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اپنے چٹکلوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے تھے۔ لڈن میاں تو کبھی امیتابھ بچن سے تشبیہات دینے والی ویڈیوز ان کی بہت وائرل بھی ہوئیں۔ کورونا کے علاج سے متعلق بھی انہوں نے دعوی کیا لیکن سوال کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ “نہیں بتاؤں گا” یہ جملہ بھی ان کا بہت زیادہ ہی مشہور ہوا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.