Ultimate magazine theme for WordPress.

نواز شریف کی درخواست مسترد، 10 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم

0 66

اسلام آباد (آن لائن نیوز روم) اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست پر کہا ہے کہ وہ نواز شریف کو سرینڈر کے لیے ایک موقع فراہم کر رہے ہیں، آئندہ سماعت پر نواز شریف کو عدالت پیش ہونا پڑے گا جو 10 ستمبر کو ہوگی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچنے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی درخواست ، نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل کی بھی سماعت کی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف خاندان کے خلاف دائر مختلف ریفرنسز کی متفرق درخواستوں کی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں ان کے ہمراہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر، مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے آغاز میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں اتنا رش ہے اگر کورونا وائرس پھیل گیا تو کون ذمہ دار ہوگا، تھوڑی احتیاط ہمیں خود بھی کرنی چاہیئے، ہمارے اسٹاف کو بھی عدالت آنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، عام آدمی کو پریشانی نہیں ہونی چائیے۔ عدالت میں خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی وبا کورونا کی وجہ سے میاں نواز شریف واپس نہیں آسکتے لاہور ہائی کورٹ میں بھی معاملہ زیر سماعت ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جو مجرمانہ اپیل ہمارے پاس ہیں اس پر وہ ضمانت پر تھے، کیا کرمنل اپیل نمبر ایک کا فیصلہ معطل ہو گیا ہے؟ عدالت نے دریافت کیا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دیا تھا تو کیا العزیزیہ کی سزا ختم ہوگئی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ کی سزا مختصر مدت کے لیے معطل کی تھی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ بیان حلفی کا پیراگراف نمبر 2 پڑھیں، کیا لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر کو ایک طرف کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا ضمانت یا سزا معطلی سے کوئی تعلق نہیں، ضمانت اور سزا معطلی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے نام ای سی ایل سے نکلنے والی درخواست پر فیصلہ کیا تھا جبکہ ہم نے یہاں سزا معطلی اور ضمانت کیس کو ریگولیٹ کرنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.