Ultimate magazine theme for WordPress.

نوکریوں میں اردو بولنے والوں سے زیادتی، اس لسٹ نے سارے حقائق عیاں کردیئے

0 405

یہ لسٹ Procincial Management Service PMS کے مقابلے کے امتحانوں میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی حتمی لسٹ ہے جو ادھوری ہے۔ اس میں کل 193 نام ہیں جن کو سندھ حکومت کے تحت مختلف محکموں میں بھیجا گیا ہے۔ کراچی کے جو نوجوان PMS نہیں جانتے ان کو بتاتا چلوں کے یہ امتحان فیڈرل کے CSS کی طرز کا صوبائی مقابلے کا امتحان ہوتا ہے۔ یہ امتحان پہلے ہر پانچ سال بعد ہوتا تھا تاہم اب یہ ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ اس لسٹ کے مطابق ان امتحانوں کا اشتہار اکتوبر 2017 میں ملک کے ہر بڑے اخبار میں دیا گیا۔ فروری 2018 کو قریب 44 ہزار امیدواروں نے سو نمبر کے MCQs کا اسکریننگ ٹیسٹ سندھ بھر میں دیا جس میں سے 5 ہزار امیدوار تحریری امتحان میں بیٹھنے کے لئے اہل قرار دیئے گئے۔ جولائی 2018 میں قریب آٹھ پرچوں کا تحریری امتحان ہوا جس میں سے 552 امیدواروں کو مارچ 2019 کو کامیاب قرار دیا گیا۔ انٹرویو کے بعد اکتوبر 2019 میں کل 235 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا جس میں سے 193 امیدوار PMS کیڈر میں منتخب کئے گئے۔ 18 مئی 2020 کو یعنی قریب دو سال کے انتہائی مشکل مرحلوں کے بعد ان امیدواروں کو مختلف محکموں میں بھیجا گیا۔

کیا اردو اسپیکنگ سندھیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے؟

اس کا جواب تو سیدھا سیدھا یہ ہے کہ اس لسٹ میں کئی اردو اسپیکنگ ہیں جن کے نام گنوائے جا سکتے ہیں۔ تاہم پروپگنڈہ کرنے والے کا تریاق اس سے ممکن نہیں ہوگا.  کیونکہ اس نے یہ پروپگنڈہ بھی انہی لوگوں کے لئے تیار جو اس پروپگنڈے میں اپنی زندگی گزار چکے اور اب اپنے بچوں کو یہ نفرت منتقل کر رہے ہیں۔ تاہم کچھ نکات میں اس کا جواب تلاش کرتے ہیں:

اول۔

سندھ میں جاب کی بنیاد پر تقسیم سندھی، اردو یا کسی اور قومیت پر نہیں بلکہ شہری اور دیہی سندھ پر ہے۔ شہری سندھ سے مراد کراچی کی تقریبا تمام اور حیدرآباد/ سکھر کی آدھی آبادی شامل ہے۔ کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر نوکریوں کی تقسیم 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس شہری آبادی میں اردو اسپیکنگ کے ساتھ سندھی، پختون، پنجابی، بلوچ سمیت تمام قومیتیں شامل ہیں۔ یعنی سندھ اربن کا مطلب محض اردو اسپیکنگ نہیں ہیں۔

دوئم۔

کتنے اردو اسپیکنگ سندھی وفاق یا صوبے میں ہونے والے ان امتحانوں میں بیٹھ رہے ہیں! پولیس، FIA,سوئی گیس،کسٹمز، لیکچرر سمیت مختلف اداروں کی ہزاروں میں جاب کے اشتہار آتے ہیں۔ نفرت پھیلانے والے اور اس کے خریداروں میں سے کون اپلائی کرتا ہے! خود پوسٹ کرنے والے یا اس پروپگنڈے پر واہ واہ کرنے والوں کے گھر یا خاندان کے کتنے فرد وفاق کے CSS یا صوبے کے PMS یا دیگر امتحانوں میں بیٹھے ہیں! شہری سندھ جس میں اردو اسپیکنگ ایک بڑی اکثریت ہیں وہ ن امتحانوں میں قطعی طور پر لاتعلق ہوچکی ہے۔

ویسے تو کئی سالوں سے وفاق کے تحت CSS اور صوبائی امتحانوں میں سندھ شہری امیدواروں کی سیٹیں ان کی لا تعلقی کے باعث خالی جا رہی ہیں تاہم میں PMS 2013کے امتحان کی مثال پیش کروں گا جس میں شہری سندھ کی 73 سیٹوں کے لئے محض 250 لوگ تحریری امتحان میں بیٹھے اور 102 کامیاب ہو انٹرویو تک پہنچے جبکہ دیہی سندھ کے 3 ہزار امیدوار 110 سیٹوں کے لئے ان امتحانوں میں بیٹھے اور 500 سے زائد پاس ہوئے۔ یعنی ہر سیٹ کے لئے پانچ امیدوار جبکہ شہری سندھ میں مقابلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔

سوئم۔

اردو اسپیکنگ کیوں نہیں بیٹھ رہے! اس کے بہت سے جواب ہو سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ پرائیوٹ جاب کرتے ہیں یا اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ تاہم بڑی اکثریت اسی پروپگنڈے کے تحت یہ امتحان نہیں دیتے۔

چہارم۔

 اگر اردو اسپیکنگ سندھی ان امتحانوں میں نہیں بیٹھ رہے تو سیٹیں جا کہاں رہی ہیں! کہیں نہیں جا رہی۔ وفاق اور صوبائی سطح پر جو سیٹیں کوٹہ کے حساب سے خالی جاتی ہیں وہ اگلے امتحانوں کے لئے اسی کوٹہ کا حصہ بنتی ہیں اور ان سیٹوں پر اسی کوٹے کے تحت امیدوار منتخب ہو سکتے ہیں۔ تاہم گذشتہ کئی سالوں سے پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے آئے امیدواران نے شہری سندھ کا ڈومیسائل حاصل کرکے یہ خلا پر کر لیا ہے۔ جبکہ ان لسانی جماعت کے لوگوں کی چاند ماری ھمیشہ کر طرح اپنے ہی پڑوسیوں پر ہے۔

 آخر میں پروپگنڈہ کرنے والے اور اس سے متاثر ہونے والوں کے لئے کچھ سوال چھوڑتا ہوں۔

1. آپ یا آپ کے گھر والوں میں سے کتنے لوگ وفاق اور صوبائی ان امتحانوں کی نوعیت جانتے ہیں؟

2. کتنے لوگ یا ان کے گھر والے ان امتحانوں میں شریک ہوئے ہیں؟

3.  کتنے لوگ اپنے بچوں کو ان امتحانوں کے لئے motivate کرتے ہیں اور کتنے لوگ ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ امتحان تمہارے لئے نہیں ہے۔ تم کو سلیکٹ نہیں کیا جائے گا۔

4. آپ میں سے کتنے لوگ ذہن میں یہ تاثر لئے بیٹھے ہیں کہ سندھی آپ کو منتخب نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہے تو وفاق کے تحت CSS اور دیگر امتحانوں میں منتخب ہو کر ان کو جواب کیوں نہیں دیتے۔ یا پاکستان کی تمام ہی قومیتیں آپ کی دشمن ہیں؟

5. کوٹہ سسٹم آج کس کی ضرورت ہے؟ آپ یہ جانتے ہیں کہ اگر آج سندھ میں کوٹہ سسٹم تباہ ہو جائے تو اس کا سندھ اربن پر کیا اثر پڑے گا۔

(نوٹ:یے اردو بولنے والے ایک بھائی کی تحریر ہے، جو سوشل میڈیا کے ذریعے آپ تک پہنچائی گئی ہے، ادارے کا اس مواد سے متفق ہونا لازمی نہیں)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.