Ultimate magazine theme for WordPress.

خاتون ہو تو حائمہ خاتون جیسی

0 88

ڈاکٹرمحمد قمرخان

آج سمندر پار سے گھر پہنچے وہ وعدہ تکمیل کرنے جو مہم پر جانے سے پہلے ابلیغی خاتون سے شادی کا کیا تھا۔ آج رات وہ وعدہ شرمندہ تعبیر ہوا اور کل ہلاکو خاں سے معرکہ طے تھا۔ اس معرکے کی شاندار فتح کے لیے بیوی نے “قیامِ نو” کی امید پر خاوند ارطغرل غازی کو حوصلہ دیا کہ یہ حجر وقتی ہے، ہم ملیں گے مگر اس وقت ایک نئ صبح ہوگی، نیا زمانہ ہوگا تو گرچہ حوصلے کی چٹان، ہمت کا بے گراں سمندر ارطغرل اپنی ماں سے رخصت لینے پہنچتا ہے تو وہ ماں کہتی ہے کہ بیٹا اسلام کا قیام تو تمہارا منتظر ہے، مظلوموں کی تم امید ہو، ظالم کے لیے تم قہر ہو الغرض “قیامِ نو” تمہاری راہ دیکھتا ہے۔ میں نے اپنے حقوق تمہیں معاف کیے تم بھی مجھے معاف کرنا۔ یہ الفاظ اس خاتون کے تھے جسے آج تک یہ بوڑھا آسمان حائمہ خاتون کے نام کو ترس گیا ہے۔ یہ وہ خاتون تھی جس کے خاوند سلیمان شاہ منگول اور صلیبیوں سے سالوں تک اسلام کے قیامِ نو کے لیے لڑتے رہے اور اس کے چھ  بیٹے جن میں ارطغرل، ابن العربی کا شاگرد اور اس کے دامن سے وابستہ ہوا جس کی وجہ سے اس نے اس کے سینے کو ایسا سینچا کہ دشمن، ظالم اور کافر کے آگے سر نہیں جھکایا۔ ارطغرل مزاج کا جنگجو تھا، انصاف پسند تھا۔ ظالم کے خلاف تلووار تان لیتا چاہے وہ اپنا سگا چچا ہو، بھائی ہو، امیرِ سلطنت ہو، سردارِ اعلٰی ہو یا پھر منگلول ہوں، صلیبی ہوں، ڈاکوؤں ہوں یا پھر غدار ہوں۔ اس نے اپنے قبیلے کو اسلام کی خاطر، وطن کی خاطر کئ بار حجرت کرائی بالآخر سوگت ترکی کا ایک مشہور علاقہ ہے اس میں مستقل غدر پر قیام پذیر ہوۓ اور وہی خلافتِ عثمانیہ کا مرکز بنا۔        ارطغرل کی تربیت، ہمت اور حوصلہ کے لیے اس کی ماں حائمہ خاتون ایک آماج گاہ سے کم نہ تھی۔ سلیمان شاہ کے بعد حائمہ خاتون نے اپنے قبیلے کا سردار ارطغرل کو بنایا اور یوں ارطغرل قائی قبیلے کا سردار کہلایا اور اپنے وطن کے لیے، اسلام کے لیے دن رات محنت کی جس کی بدولت خلافتِ عثمانیہ ٦٠٠ سال تک پھلتی پھولتی رہی۔اسی لیے تو علامہ اقبالؒ نے ارطغرل کی محنت اور لگن کی بدولت فرمایا تھا کہ؎ کوئی قابل ہو تو ہم شانِ قائی دیتے ہیں،ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئ دیتے ہیں۔ارطغرل ہمیشہ جنگ میں مصروف رہتا یا پھر ترک قبائل کے جرگہ میں ان کو متحد کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑتا تو ادھر قبیلے کی ذمہ داری حائمہ خاتون پر ہوتی۔ وہ قبیلے کی ہر عورت کو سپاہی بنا چکی تھی۔ حفاظت کے لیے عورتیں ہمیشہ تیار ہوتیں اور کچھ عورتیں قالينیں بنانے میں مصروف رہتیں تو چنانچہ حائمہ خاتون قالینوں، مشقوں اور امورِ خانہ داری میں عورت کو مصروف رکھتی یوں ارطغرل جنگ میں گھر کی طرف سے بے فکر ہو کے لڑتا۔      ایک بار ارطغرل منگولوں کے  ظلم کا شکار بنتا ہے اور وہ اسے قید کردیتے ہیں، ساتھ ہی قبیلے پہ خبر بھیج دیتے ہیں کہ ارطغرل مر گیا ہے، ادھر حائمہ خاتون خود قبیلے کی سردار بن جاتی ہیں، جرگہ خود کرتی ہیں، جنگ اور امن کے فیصلے خود کرتی ہیں اور یوں کئ مہینوں تک قبیلہ درست سمت چلتا رہتا ہے، وہ عورت ہو کر مردوں کو قیامِ نو کی امید دلاتی۔ انصاف کا عَلم بلند رکھتی، جرأت اور دلیری کی واضح مثال تھی۔ تو جب ارطغرل منگولوں کی قید سے بچ کر آتا ہے تو اسے ابن العربی اور اس وقت کی انٹیلی جنس ایجنسی کے لوگوں نے سوگت کی طرف ہجرت کا کہا، اس وقت سوگت میں صلیبی مکین تھے جو ترک قبائل کو بالکل رہنے نہیں دیتے تو چنانچہ ارطغرل وہاں پہنچا اور وہاں سب سے پہلے ہانلی بازار کو فتح کیا اور وہاں اذانِ محمدی سے بازار کو سرگرم کردیا۔ تب ترک قبائل ارطغرل پر انحصار کرنے لگے اور اسے اپنا سردار بنا لیا۔ اتنے میں سلطان علاؤالدین نے سلجوقی سلطنت جو اس وقت اپنے اختتام کو تھی کا سردارِ اعلٰی منتخب کیا اور سوگت اور اس کے اردگرد کا علاقہ اس کے سپرد کیا۔ یہ بات امیر سعدالدین کو ناپسند تھی جس کی وجہ سے اس نے ایک سازش رچائی کہ سلطان کو خود زہر دیا اور الزام ارطغرل پر لگایا، تو ایک بار پھر حائمہ خاتون نے امیرِ سلطنت سے ٹکر لی اور ارطغرل اور سلطان کو بازیاب کرایا۔ کچھ عرصے بعد امیر سعدالدین نے دوبارہ زہر دے کر سلطان کو لقمۀ اجل بنا دیا تو اس وقت سلجوقی سلطنت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا اور یوں سلطنت ختم ہوگئ اور اناطولیہ میں منگول اور صلیبی اتحاد میں لڑتے رہے، مگر ارطغرل نے ہمت نہ ہاری، اپنے سوگت اور دوسرے علاقوں کی ڈٹ کر حفاظت کی حتیٰ کے وہاں سے بڑے سے بڑے منگول کو شکست سے دو چار کیا۔ منگول سلطنت کے بڑے مشہور لیڈر نویان، النچق وغیرہ وہاں سے ذلت کے علاوہ کچھ حاصل نہ کر پاۓ۔     ایک دن ارطغرل صلیبیوں کے ساتھ جنگ میں تھا تو منگول فوج قائی قبیلے پر حملہ آوار ہوئی تو اس وقت حائمہ خاتون کی دانشمندی اور دور اندیشی سے حملہ ٹل گیا، یہاں تک کہ ارطغرل واپس آیا اور اس نے منگولوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔ اس وقت ارطغرل بہت پریشان رہتا کہ ایک طرف منگول اور دوسری طرف صلیبی! کس طرح ہم قیامِ نو پر عمل پیرا ہوں گے، کیسے مظلوموں کی ہم امید بن پائیں گے۔ اتنے میں اللّٰه نے ہلاکو خان کے کزن برکے خان کو مسلمان بنادیا، یوں ارطغرل کا خواب اپنی منزل کو رواں دواں ہوا۔؎ ہیں عیاں یورش تاتار کے افسانے سے،پاسباں مل گۓ کعبے کو صنم خانے سے۔چنانچہ ارطغرل نے برکے خان کے ساتھ مل کر اناطولیہ سے منگول اور صلیبیوں کا صفایا کیا جس سے مسلمانوں کی سلطنت کی بنیاد پڑی۔ یہی وہ رات تھی جب  ارطغرل برکے خان سے اتحاد کر کے گھر پہنچا تو ابلیغی خاتون سے  شادی تھی اور اگلی صبح اس بوڑھی ماں نے درخشنده  پیشانی کے ساتھ معرکہ حق و باطل کے لیے ارطغرل کو بھیجا اور یوں وہ معرکہ حق کہلایا اور ارطغرل کامیاب ہوا۔        یہ کامیابیاں، یہ حوصلہ، یہ جرأت صرف ایک ماں، ایک بیوی ہی دے سکتی ہے۔ وگرنہ یہ سب کچھ ممکن نہیں۔      قرونِ اولیٰ کے بعد وہ اک خاتون آئی جس نے قیامِ نو کا تصور اپنی میراث میں پایا مگر اسے ایسا اپنایا کہ اسے شرمندہ تعبیر ہوتے اپنی زندگی میں دیکھا۔     آج یہ بوڑھا آسمان پھر سے حائمہ خاتون کی تلاش میں ہے چاہے وہ ایک ماں ہو، بیوی ہو یا بہن ہو مگر جرأت اور حوصلہ حائمہ خاتون جیسا چاہیۓ، پھر ہم پاکستان کیا بلکہ برِصغیر میں قیامِ نو کی بنیاد رکھ سکیں گے، پھر سے اسلام کا بول بالا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.