Ultimate magazine theme for WordPress.

کورونا وائرس اور ہم

0 109

تحریر:ڈاکٹر محمد قمر خان (اسسٹنٹ پروفیسر، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کراچی کیمپس)

آج پورا عالم انسانیت ایک مشترکہ مصیبت میں گرفتار ہے، جس کا نام کورونا وائرس ہے۔ اس کی ابتدا چین سے ہوئی لیکن آج وہ پوری دنیا میں اجل کی اماج گاہ بن گئی ہے۔ اس سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر جو غیرمسلم ممالک نے اختیار کی اور وہ آہستہ آہستہ اس بیماری سے بچ گئے یا بچ رہے ہیں، ان میں سے ایک یے تھی کہ چین نے اسلام سے وابستہ لوگوں کو اسلامی آزادی دی اور قرآن کو پڑھنے کا حکم دیا۔ آج وہ تقریبن کورونا وائرس سے نجات پا چکے ہیں۔ جب یہ مصیبت پاکستان میں آئی تو حکومت پاکستان نے بڑی اچھی تدابیر اختیار کیں جس کو عالم آب و گل نے سراہا کہ پاکستان جو کہ ایک ترقی پذیر ملک ہے، نے قابل تحسین اقدامات کیے ہیں، ان میں ایک یے بھی تھا کہ مساجد میں اجتماع اور جمعہ نماز کی پابندی عائد کردی۔ حیرت کی بات تی مفکر اسلام کیلئے، لیکن لوگوں نے لبیک کہا تاکہ حکومت اس بیماری یا وبا پر کسی نا کسی طرح کامیاب ہوجائے، لیکن میں ذاتی حیثیت سے حکومت پاکستان سے بڑے احترام کے ساتھ یے اختلاف رکھا ہوں کہ مساجد اور خاص کر طواف کعبہ اور حرمین شریفین کو بند کرنا یے اسلام کیلئے لمحہ فکریہ ہے، ہمیں یے فکر دامن گیر ہونی چاہیئے کہ طواف کا رکنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ، تو اس مصیبت میں قیامت کی نشانی کو اپنانا بہت بڑا ظلم ہے۔

میری ذاتی حیثیت میں کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی کچھ یوں ہونی چاہیئے۔

  1. انفرادی اور اجتماعی توبہ
  2. مساجد میں تلاوت قرآن
  3. مساجد میں صلواۃ التوبہ
  4. طواف کعبہ بحال کردیں
  5. عالم اسلام کے حکمرانوں کی حرمین شریفین پر حاضری
  6. حقوق العباد کی پابندی
  7. ہمسائے کے حقوق
  8. سود سے توبہ
  9. ہر عمل اسلام کے عین مطابق

10-پانچ وقت نماز کی پابندی

11-جمعہ کا آغاز کردیں

12-جہاں یے وبا ہو وہاں سے لوگ دوسرے علاقے میں نہ جائیں

13-کپڑے دھونے والے صابن سے ہاتھ صاف کریں۔

(نوٹ:آن لائن نیوز روم کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے سے متفق ہونا ضروری نہیں)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.