Ultimate magazine theme for WordPress.

لاک ڈاون میں سیکس ورکرز کی زندگی اجرن بن گئی، 24 ارب ڈالر کی سیکس انڈسٹری تباہ

0 405

کراچی (آن لائن نیوز روم ڈیسک) لاک ڈاون میں سیکس ورکرز کی زندگی کیسے گزر رہی ہے؟ کورونا وائرس کی وجہ سےرنگین شامیں ماند پڑ چکی ہیں۔ نائٹ کلب، بار اور ریڈ ایریا مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔ جاپان کی سیکس انڈسٹری ایک سال میں 24 ارب ڈالر کا کاروبار کرتی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کورونا وائرس کے باعث آبادی کا بڑا حصہ لاک ڈاون میں رہنے پر مجبور ہے وہیں، اس کاروبار سے منسلک افراد بھی شدید مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ سیاحوں کی آمد میں شدید کمی اور گھروں میں محدود ہونے کے باعث سیکس ورکرز کے ذرائع آمدن مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گئے ہیں، ایک وقت تھا جب جاپان کے بڑے شہروں میں راتیں روشن اور جاگتی تھیں ۔ بارز، نائٹ کلب اور ریڈ ایریاز میں چہل پہل رہتی تھی لیکن کورونا وائرس کیوبا کے باعث جاپان نے مکمل لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ اس پریشان کن صورت حال میں پردوں کے پیچھے چلنے والا کاروبار ٹھپ ہو چکاہے جسم فروشی سے منسلک جاپان کی میکہ بھی لمبے لاک ڈاون سے پریشان ہے۔ میکہ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں اب گھرکا چولہا نہیں چل رہا۔ لاک ڈاون کے باعث وہ گھر میں محد ود ہو کر رہ گئی ہے۔ میکہ کہتی ہیں اس نے لاک ڈاون کے دوران اس نے دیگر نوکریوں کی طرف رخ کیا لیکن سب بند ہونے کی وجہ سے صرف مایوسی کا سامنا ہے جاپانی سیکس ورکر کو نوکری نہ ملنے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ حکومت کی طرف سے عام شہریوں کے لیے تو ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس پیکیج میں اس کاروبار سے وآبستہ لوگوں کے لیے رقم نہیں رکھی گئی۔ میکہ کے نزدیک اس کام سے وابسطہ ورکرز کی کاروباری زندگی تین سے چار سال ہی ہوتی ہے۔ عام طور پرنوجوان لڑکیوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے میکہ پر امید ہیں کہ جلد ہی جاپان کی رونقیں واپس اور ان کا کام پھر سے چل نکلے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.