Ultimate magazine theme for WordPress.

سندھ کے صنعتکاروں کی ملازموں کو آئندہ ماہ تنخواہ دینے سے معذرت، ہم نے عوام کیلئے سخت اقدامات اٹھائے:وزیراعلیٰ

0 415

کراچی (آن لائن نیوز روم) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے سندھ کے بڑے صنعتکاروں سے اجلاس ہوا، اجلاس میں قاسم سراج تیلی، میاں زاہد، محمد علی تابا، زین بشیر، خالد مجید، امان قاسم، خرم اعجاز، جاوید بلوانی، زبیر چھایا، فواد انور، بشیر رشید، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم ماندوی والا، صوبائی وزراء سعید غنی، مکیش چاولا، امتیاز شیخ اور ناصر حسین شاہ شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی ، سیکریٹری لیبر بھی اجلاس میں موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے موجودہ صورتحال میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے ہیں،  ہماری حکومت کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ ہر صورت وائرس کو کم کریں،  اس کنٹیمنٹ پالیسی کے تحت ہم نے سخت اقدامات کیے ہیں، اس میں ہم نے ضرور غلطیاں بھی کی ہونگی، مراد علی شاہ نے کہا کہ 3000 کے قریب کیسز آئے ہیں، ہماری معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور مزید ہوگی، ابھی تک ہمارے پاس کوئی کچی آبادی کے کیسز نہیں آئے، سارے کیسز پکے علاقوں کے ہیں، باہر سے سفر کرکے آنے والوں کے ہیں،  اگر وائرس کچی آبادیوں میں پھیل گیا تو اس کو روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا، یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت نے سخت اقدامات کیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ  میں فخر محسوس کر رہا ہوں کہ ہمارے علماء کرام نے نوعیت کو سمجھ کر حکومت کے ساتھ تعاون کیا،  تبلیغ جماعت والے بھی مقامی رہائشی ہیں کوئی باہر سے نہیں آیا، صورتحال ایسی ہے کہ کورونا مریض کے فوتگی میں سگا بھائی بھی جانے سے گبھراتا ہے، اللہ نہ کرے اگر صورتحال خراب ہو جائے تو سوچیں پھر کیا ہوگا۔ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ ہمارا 45 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں جاتا ہے، رواں مالی سال کے اخراجات کا آخری مہینہ ہے اس میں ہمیں 60 سے 70 ارب روپے آنے چاہیں،  رواں مہینے 33 ارب روپے آئے ہیں، صنعتیں بند ہونے کی وجہ سے کسٹم بند ہے تو وفاقی حکومت کے پاس پیسے کہا سے آئے۔ صنعتکاروں نے وزیراعلیٰ سندھ کی کاوشوں کو سراہا اور تالیاں بجائیں۔ قاسم سراج تیلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم رواں ماہ تنخواہ دے چکے ہیں لیکن آئندہ ماہ مشکل ہوگا، کوئی ایس او پی بنائی جائے تاکہ صنعت کا کچھ نہ کچھ پہیہ چلتا رہے، ایسے اقدامات کیے جائیں جس میں خطرہ بہت ہی کم ہو، ایسی صنعتوں کو چلانے کی اجازت دی جائے جسکو اپنی لیبر کالونی ہو۔  محمد علی تابا نے کہا کہ کچھ درآمد کے برآمدی احکامات ہیں، یہ ہمیں ہانر کرنے ہونگے،  ایک تو باہر سے آرڈر کم آرہے ہیں تو انکے لیے کچھ سہولت مہیا کی جائے، جن کو باہر سے آرڈر ہیں انکو کھولنا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.