Ultimate magazine theme for WordPress.

خطرے میں جنگ چھڑی توخطرناک نتائج سامنے آئینگے، بھارت کے بیانات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں:پاک فوج

0 54

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو خطرات درپیش ہیں لیکن اگر خطرے میں جنگ چھڑی تو اس کے بے قابو نتائج ہوں گے۔ راولپنڈی میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتحار نے بتایا کہ فروری 2019 میں پاک بھارت جنگ دستک دے چکی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 14 فروری 2019 کو بھارت نے پلوامہ واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت کے بے جا الزامات لگائے لیکن پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہر قسم کی تحقیق کی پیشکش کی، اس کے باوجود انتہا پسند بھارتی ریاست نے 25 اور 26 فروری کی شب ایک بزدلانہ کوشسش کی، دشمن جو سرپرائز دینا چاہتا تھا خود سرپرائز ہو کر گیا اور پاکستان نے 27 فروری کو دن کی روشنی میں دشمن کے دو طیارے گرائے، ہم نے بھارت کے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کیا اور اسی بوکھلاہٹ میں دشمن نے اپنا ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے یوم تشکر بھی ہے اور یوم عزم بھی، یوم تشکر اس حوالے سے آج کے دن افواج پاکستان قوم کے اعتماد پر پورا اتری اور یوم عزم اس حوالے سے کہ عزت اور وقار کی کوئی قیمت نہیں، ہم اپنے دشمن کی ہر سازش سے بخوبی واقف ہیں اور دفاع وطن کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے مسلسل خطرات درپیش ہیں، اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت جو کھیل کھیل رہا ہے اس سے بخوبی آگاہ ہیں، بھارت کا یہ کھیل خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ رواں برس اب تک بھارت 84 بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے جس میں ہمارے 2 شہری شہید اور 30 زخمی ہو چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 27 فروری کا دن اب ہماری تاریخ میں ایک روشن باب ہے اور اس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے، ایک سال قبل آج کے دن افواج پاکستان نے قوم کی امنگوں پر پورا اترکر دکھایا، ہم نے ناصرف وطن کی سرحدوں کا کامیاب دفاع کیا بلکہ دشمن کے عزائم کو بھی خاک میں ملایا، آج کا دن ان شہدا کے نام جنہوں نے 1947 سے دفاع وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور شہدا کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس وطن کے تحفظ کے لیے قربان کردیا، ہم تمام غازیوں کی بہادری کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جو وطن کے دفاع کے لیے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے لڑ رہے ہیں۔ آج کے دن کو یوم تشکر اور یوم عزم قرار دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اللہ کے شکر سے افواج پاکستان قوم کے غیرمتزلزل اعتماد پر اس عزم کے ساتھ پوری اتری کہ خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی جنگیں حب الوطنی، عوام کے اعتماد اور سپاہ کی قابلیت پر لڑی جاتی ہیں۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ عزت و وقار کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، ہم اپنے دشمن کی ہر سازش سے بخوبی آگاہ ہیں، پاکستان کی مسلح افواج ہر میدان میں دفاع وطن کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے جس کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے 1947 میں ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا، بھارت نے 73 سال سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام سے مقبوضہ کشمیر کی پہلے سے متنازع حیثیت کو اقوام متحدہ کی قراردوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید خراب کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 207 دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ 73 برسوں سے جاری ظلم و ستم کی انتہا پر ہیں، وہاں زندگی پوری طرح مفلوج ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ایک مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف نظریاتی یا جغرافیائی تنازع نہیں رہا بلکہ عالمی تاریخ میں انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا المیہ بنتا جارہا ہے۔ تنازع کشمیر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر طرح تیار ہے لیکن فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کس طرح لیکر آگے چلنا ہے۔ افغان امن عمل میں پیشرفت اور پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا خواہاں پاکستان سے زیادہ کوئی اور نہیں ہو سکتا اور پاکستان نے افغان امن عمل کے حوالے سے بھرپور مصالحانہ کردار ادا کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.