Ultimate magazine theme for WordPress.

"آزادی اظہار پر پابندی نہیں لگ سکتی” عدالت کا عورت مارچ کے متعلق اہم فیصلا

0 194

لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں ایڈوکیٹ اظہر صدیق کی درخواست پر عورت مارچ رکوانے کے خلاف سماعت ہوئی، عورت مارچ کی طرف سےسماجی کارکن حنا جیلانی اور ایڈوکیٹ نگہت داد عدالت میں پیش ہوئیں، ڈاریکٹر ایف آئی اے عبدالرب اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور بھی عدالت میں موجود تھے، عورت مارچ کی طرف سے انسانی حقوق کی کارکن حنا جیلانی نے موقف اپنایا کہ ہم عورت مارچ خواتین کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کرنا چاہتے ہیں، عدالت میں ایک اور وکیل کے بولنے پر شور ہوا جس پر چیف جسٹس نے کہا اگر ایسے کیا تو میں کیس نہیں سنوں گا، درخواست گزار اظہر صدیق نے موقف میں کہا کہ ہم اس ایجنڈے کو سمجھتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صرف سرکاری اداروں کا موقف جاننا چاہتے تھے۔ حنا جیلانی نے کہا کہ عورت مارچ اتوار کو کر رہے ہیں جس سے کاروبار پر اثر نہیں ہوگا۔ ہم منہ اٹھا کر تو مارچ نہیں کررہے ہے۔اظہر صدیق نے عدالت کو بیان میں کہا کہ عورت مارچ رکوانے کا ارادہ نہیں ہے، جس پر حنا جیلانی نے کہا کہ درخواست گزار کا عورت مارچ سے کیا تعلق ہے، اظہر صدیق نے کہا کہ پچھلے سال کے پوسٹر دیکھیں کیا ہوا تھا، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آزادی اظہار پر ایسے پابندی نہیں لگ سکتی، حنا جیلانی نے پوچھا کہ درخواست گزار کیوں عورت مارچ کی تشہیر پر سوشل میڈیا میں پابندی چاہتا ہے، چیف جسٹس نے پولیس سے استفسار کیا کہ پولیس سیکیورٹی کیسے دیں گے , حنا جیلانی نے بھی کہا کہ پہلے بھی مارچ ہوا پرامن رہا۔ عدالت نے حنا جیلانی کے فریق بننے اور اعتراضات پر درخواست گزار کو نوٹس جاری کر دیااور کہا کہ پولیس اور ایف آئی اے اپنی رپورٹ دیں۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی غیر زمہ دار بیان نہیں ہونے چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.